Recent Comments

No comments to show.

پانچ ہفتوں میں موٹاپاختم۔آزمودہ نقش!

آرٹیکلز
پانچ ہفتوں میں موٹاپاختم۔آزمودہ نقش!بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔السلام علیکم ۔۔۔

اردومیگ کےمعزز خواتین وحضرات ۔۔۔۔ویڈیو کی جانب بڑھنے سے پہلےجن لوگوں نے ہماری گزشتہ ویڈیوز پر کمنٹ کیئے اور دعا کی درخواست کی۔ اللہ پاک ان کی تمام جائز خواھشات کو پورا فرمائے اور ان کی تمام مشکلات کو حل فرمائے تو چلیئے بڑھتے ہیں آج کی اس ویڈیو کی جانب۔معزز دوستو۔۔۔۔قرآن میں ہمیں یہ عقیدہ ملتا ھے کہ جب ہم بیمار ہوتے ہیں تو وہی (اللہ )ہمیں شفاء دیتا ہے۔لہذا آج آپ کے ساتھ نیا ٹاپک لے کرحاضر ہواہوں کہ پانچ ہفتوںمیں موٹاپاختم اور وہ بھی ایک آزمودہ نقش سے۔ بلکہ آج یہ بھی بتاؤں گا کہ موٹاپا اور اس کی وجوہات یعنی موٹاپا کیوں ہے؟اس کی کیا وجوہات ہیں؟ انسان کب اپنے اوپرچربی کی تہہ چڑھاتا ہے؟ دوستو بعض اوقات موٹاپا انجانے میں ہو جایا کرتا ہے اور بعض اوقات اس کے کچھ عوامل ہوا کرتے ہیں۔اور جو کہ انسان کی اپنی غلطی کے نتیجے میں بھی یہ مرض لاحق ہوتاہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اگرجسم کا وزن زیادہ ہوجائے تو اسے کم کیسے کیا جائے کیونکہ سب سے مشکل مرحلہ جسم کے وزن کو کم کرنے کا ہے، کم وزن کو زیادہ کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہےنوے فیصد ایسے افراد ہیں جو اپنی غلطی سے اس مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسے نا صرف مرض کہا جاتا ہے بلکہ اسے تمام مراض کی ماں بھی کہا جاتا ہےدوستوں اسی حوالے سے آج آپ کو ایک ایسا نقش بتائیں گے جس سے پانچ ہفتوں میں آپ کا موٹاپا انشا اللہ ختم ہو جائے گا۔ یاد رہےکہ ہم تمام وظیفے انسانیت کی فلاح کے لئےاپلوڈ کرتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو اس ویڈیو کا پورا فائدہ ہوتو اس دلچسپ ویڈیو کوآخرتک ضرور دیکھئے گاتاکہ آپ کی بہتر راہنمائی ہو سکے۔ناظرین کرام۔۔۔۔۔۔موٹاپا انسانی جسم میں فالتو چربی کے اکٹھے ہوکر جسم کو بدنما کردینے کا نام ہے موٹاپا بذات خود تو بیماری نہیں ہوتا مگر یہ کسی بیماری کے نتیجے میں ہوسکتا ہے اور اس کی وجہ سے بھی کافی بیماریاں پیدا ہونے کا امکان ہوسکتا ہے۔موٹاپے کا تعلق صرف اور صرف کھانے، پینے سے نہیں بلکہ اس کی دیگر پوشیدہ وجوہات بھی ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں اگر کسی اضافی وزن کی خاتون کو دیکھا جائے تو یہی سوچا جاتا ہے کہ اس کی خوراک زیادہ اور کام کم ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کچھ ایسی خواتین بھی ہوتی ہیں جو کھاتی کم ہیں مگر پھر بھی ان کا وزن بڑھتا جاتا ہے۔ اوراگر موٹاپا طاری ہوگیا تو دمے کی شکایت بھی ہوسکتی ہے، دل کیلئے مسئلے کا باعث ہوسکتا ہے کہ پہلے جس سائز کو دل خون پہنچا رہا تھا اب اس سائز میں اضافہ ہوچکا ہے اسی طرح زیادہ وزن کی وجہ سے ہمارے جوڑ جو کہ پہلے ایک مخصوص وزن اٹھا رہے تھے۔اب وزن زیادہ ہوگیا تو جوڑوں میں درد کی کیفیت تک بات پہنچ جاتی ہے۔ اسی طرح نظام ہاضمہ کے مسائل سامنے آتے ہیں اور جگر تک بلکہ جگر کے فیٹی لیور تک بات جا پہنچتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نیند کے مسائل سامنے آتے ہیں اور پھر آنتوں میں رکاوٹوں کے مسائل آتے ہیں، قبض ہوتا ہے اور بہت سے افراد جو موٹے ہوتے ہیں ان میں سے اکثریت بواسیر کا شکار ہوجاتی ہے۔ یہ وہ مسائل ہیں جو موٹاپے کے مرض کے ساتھ سامنے آنا شروع ہوجاتے ہیں اور اس میں خواتین اور مرد دونوں یکساں طور پر شکار ہوا کرتے ہیں۔لہذا بڑھے پیٹ سے نجات پائیے سلیم اور سمارٹ ہوجائیے ۔ رات کو سونے سے پہلے اور صبح اٹھنے کے بعد یہ نقش دائرے کی شکل میں اپنے پیٹ پر تھوڑی دیر پھیریں ۔ یعنی پیٹ پر گول گول گھوماتے جائیں ۔ پہلے دن سے ہی پیٹ کم ہونا شروع ہو جائے گا کم از کم اپنی ہتھیلی جتنے کاغذ پر نقش لکھیں۔ یہ نقش آپ کو اپنی اسکرین پر بھی نظر آرہا ہوگا۔یہ نقش جس نے بھی آزمایا صرف پانچ ہفتوںمیں پیٹ کم ہوگیا۔آزمودہ نقش ہے۔ جب پیٹ اپنی اصل حالت میں آجائے تو یہ عمل ترک کر دیں۔ اگر یہ تعویذ پھٹ جائے تو اس کو جلا دیں اور دوبارہ بنا لیں۔ اور اپنی خوراک بھی کم کر دیں جو کچھ ہم کھاتے پیتے ہیں ہمیں اس چیز کا علم ہونا چاہیے کہ ہمارے جسم کو کتنی خوراک کی ضرورت ہے اور کب خوراک کی ضرورت ہے۔ اس میں سب سے پہلا اصول کہ جب بھوک لگے تو کھانا کھایا جائے اور جب ابھی بھوک باقی ہو تو کھانا چھوڑ دیا جائےیہ اتنا بڑا اصول ہے کہ اس اصول کو اپنانے والا شخص انتہائی سڈول، چاق و چوبند، چست و چاالک، انتہائی ایکٹو ہوتا ہے، اس کے تمام حواس بہترین طور پر کام کرتے ہیں اور وہ تھکاوٹ کا شکار نہیں ہوا کرتا، یعنی اس اصول کے بہت سے فوائد ہیں۔ بعض ادویات کے استعمال سے بھی انسان موٹا ہوجاتا ہے۔اس کے علاوہ جس ماحول میں آپ زندگی گزار رہے ہیں اس کاآپ کے وزن پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ جن جگہوں پر تازہ اور صاف ستھری غذا مہیا نہیں ہوتی یا زیادہ تیل والے کھانے کھانے کا رواج ہوتا ہےوہاں اکثر لوگوں کا وزن زیادہ ہوتا ہے۔بہت سی خواتین مناسب نیند نہ لینے کی وجہ سے بھی موٹاپے کا شکار ہوجاتی ہیں۔ آپ کی نیند کا محض ایک گھنٹہ کم ہونے سے جسم میں لیپئن اور گریلن کا لیول بڑھنے لگتا ہے۔ یہ بھوک کی شدت میں اضافے کا محرک ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کم سونے والے افراد عام طور پر ایسی غذائیں لینے لگتے ہیں جن میں کیلریز یا کیلشیم زیادہ ہو۔ جسم میں لیپٹن اور گریلن کا حد سے زیادہ بڑھ جانا بھوک کو بڑھا دیتا ہے۔جو اکثر موٹاپے کا سبب بنتے ہیں۔یاعورت اپنی زندگی میں مختلف مراحل سے گزرتی ہے جس کی وجہ سے ہارمونز میں عدم توازن آجاتا ہے۔ عورت کے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث ہارمونل عدم توازن موٹاپے کا سبب بن سکتاہے۔تھائی رائڈ ایک عام مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ خواتین میں بھی رائڈ کا بڑھنا وزن میں اضافے کا سبب بنتا جارہا ہے۔ بچوں کی پیدائش کے بعد خواتین کی اکثریت موٹاپے کا شکار اور کچھ خواتین دبلی ہوجاتی ہیں اسی طرح بچوں کی مسلسل پیدائش یا ان میں وقفے کے لیے لی جانے والی ادویات بھی بعض اوقات دبلے پن، کمزوری، وزن میں اضافے اور دیگر مسائل کا سبب بنتی ہیں۔جسم میں داخل ہونے والی توانائی وہ ہوتی ہے جو ہم غذا اور پانی سے حاصل کررہے ہوتے ہیں جبکہ باہر نکلنے والی توانائی وہ ہوتی ہے جسے ہم اپنے روزمرہ کاموں کے

50% LikesVS
50% Dislikes