Recent Comments

No comments to show.

تیسر ی بیٹی ہو نے پر بھی مٹھا ئی تقسیم کی تھی پھر چو تھی پا نچو یں چھٹی اور پھر سا تو یں

حمیر ہ جب پیدا ہو ئی تھی تب بھی اس کے با پ نے خو شی اور صبر و شکر کا دا من ہا تھ سے نا چھو ڑا تھا خا ندا ن اور محلے وا لو ں کے لا کھ ا عترا ضا ت ہو نے کے با و جود اس نے اپنی تیسر ی بیٹی ہو نے پر بھی مٹھا ئی تقسیم کی تھی پھر چو تھی پا نچو یں چھٹی اور پھر سا تو یں اسکے با پ نے سا تو ں بیٹیو ں کی پیدا ئش پر خو شیا ں منا ئیں تھیں اور

منا تا بھی

کیو ں نا بیٹی ر حمت جو ہو تی ہے مو لو ی ہو نے کی و جہ سے مذ ہب سے خو ب آ شنا ئی تھی با تیں کر تا تو منہ سے پھو ل سے جھڑ تے تھے وہ ا کثر سمجھا تا تھا بیٹی خدا کی ر حمت ہو تی ہے

اب اسکی سا ت بیٹیا ں تھیں مگر اسکی پیشا نی پر ایک شکن بھی نہ پڑ ی تھی سا تو ں بیٹیا ں اسے جا ن سے ز یا دہ عز یز تھیں ان کے لیئے مو لو ی ہو نے کے سا تھ سا تھ اسنے در ز ی کا کا م بھی شرو ع کر دیا تھا بیٹیو ں کی ا چھی طر ح تر بیت کی پڑ ھا یا لکھایا جو خو د کھا تے دو نو ں میا ں بیو ی ا نھیں بھی کھلا تے او ڑ ھنے پہننے کو بھی منا سب مل جا تا تھا یو نہی دن گز ر تے گئے لہذا بیٹیا ں جوا ن اور مو لو ی بو ڑ ھا ہو تا گیا جب بیٹیا ں جوا ن ہو ئیں انکی شا دیو ں کی با ر یا ں آ ئیں تو لڑ کے وا لو ں کے بھر م اور

جہیز کی لسٹ د یکھ کر بہت پر یشا ن اور متفکر ہوا کہ اب کیا ہو گا سا ری ز ند گی کی کما ئی میں تو دو بیٹیو ں کی شا دی ہو ئی ہے آ نکھو ں سے د کھا ئی بھی کم د ینے لگا تھا اب وہ درزی کا کام بھی نہ کر سکتا تھا گھر بھر کے کھا نے پینے کا بندو بست کر نا
بھی اسی کی ذ مہ داری تھی

50% LikesVS
50% Dislikes