Recent Comments

No comments to show.

منہ اٹھا کر مار دھاڑ کرنے والا ہی صرف ٹی ٹوئنٹی کا کھلاڑی نہیں ہوتا۔۔ لاہور قلنندرز کے کامران غلام نے قومی ٹی ٹوئنٹی سکواڈ میں سلیکشن کو اپنا ہدف بنا لیا

پاکستان سپر لیگ کی ٹیم لاہور قلندرز کے آل راؤنڈر کامران غلام نے کہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ صرف مار دھاڑ کا نام نہیں ہوتی، دنیا کے ورلڈ کلاس بیٹرز بھی ٹی ٹوئنٹی میں سنبھل کر کھیلتے ہیں۔

ایک انٹرویومیں کامران غلام نے کہا کہ پاکستان ٹیم اسی لیے ہے کہ جو اچھاپرفارم کرے اسے موقع بھی ملے، اگر میں اچھا کھیلتا ہوں تو پھر میں بھی قومی ٹیم میں موقع ملنے کا منتظر ہوں گا ، میرا یہی ٹارگٹ ہے کہ جب بھی جہاں موقع ملے اچھا کھیلوں اور قومی ٹیم میں مجھے موقع ملے۔

کامران غلام نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ صرف مار دھاڑ کا نام نہیں اس میں بھی صورتحال کے مطابق کھیلنا پڑتا ہے، بابر اعظم، جو روٹ ،ویرات کوہلی اور کین ولیمسن جیسے ورلڈ کلاس کھلاڑی جب ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کھیلتے ہیں تو صورتحال کے مطابق کھیلتے ہیں کیونکہ منہ اٹھا کر ماردھاڑکرنے والا ہی صرف ٹی ٹوئنٹی کا کھلاڑی نہیں ہوتا، اس میں بھی سنبھل کر کھیلنا پڑتا ہے۔

بیٹر کامران غلام کے مطابق محمد حفیظ، فخر زمان اور شاہین شاہ آفریدی جیسے سینئر کھلاڑیوں کی موجودگی کا فائدہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ فخر زمان کے ساتھ بیٹنگ کرنا بہت آسان ہوتا ہے، وہ جارحانہ انداز میں کھیلنا پسند کرتے ہیں۔کامران غلام نے کہا کہ محمد حفیظ سے بہت سیکھنے کا موقع ملتا ہے جب کہ شاہین آفریدی بہت ہی اچھے کپتان ہیں ان جیسے فائٹر کپتان کی ضرورت ہوتی ہے، شاہین آفریدی سپورٹ کرتے ہیں اور بیک کرتے ہیں، پھر نتیجہ سب کے سامنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاہور قلندرز ٹیم لاہور کی ہے تو سپورٹ تو ملے گی، مجھے بڑی امید ہے کہ ٹرافی لاہور قلندرز کی ہوگی، ہم محنت کر رہے ہیں، فینز ٹیم کیلئے دعا کریں، ٹیم اس وقت پی ایس ایل میں بہت اچھی جا رہی ہے، سب 100 فیصد کھیل پیش کر رہے ہیں۔

کامران غلام نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا پھر لاہورقلندرز نے مجھ پر اعتماد کیا، قلندرز کے اعتماد پر پورا اتروں گا، جتنا ہو سکا پرفارم کروں گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes