Recent Comments

No comments to show.

اللہ کا ڈر

ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دربار کا وقت ختم ہونے کے بعد گھر آئے اور کسی کام میں لگ گئے۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا، اے امیرالمومنین آپ فلاں شخص سے میرا حق دلوا دیجئے۔ آپؓ کو بہت غصہ آیا. اور اس شخص کو ایک د-ر-ا پیٹھ پر م-ا-ر-ا اور کہا جب میں دربار لگاتا ہوں تو اس وقت تم اپنے معاملات لے کر آتے نہیں اور جب میں گھر کے کام کاج میں مصروف ہوتا ہو ں تو تم اپنی ضرورتوں کو لے کر آ جاتے ہو۔ بعد میں آپ کو اپنی غلطی کا اندازہ ہوا تو بہت پریشان ہوئے

اور اس شخص کو (جسے د-ر-ا م-ا-ر-ا تھا) بلوایا اور اس کے ہاتھ میں د-ر-ا دیا. اور اپنی پیٹھ آگے کی اور کہا مجھے د-ر–ا مارو میں نے تم سے زیادتی کی ہے۔ وقت کا بادشاہ، بائیس لاکھ مربع میل کا حکمران ایک عام آدمی سے کہہ رہا ہے میں نے تم سے زیادتی کی ہے۔ مجھے ویسی ہی سزا دو، اس شخص نے کہا میں نے آپ کو معاف کیا۔ آپؓ نے کہا نہیں نہیں، کل -ق-ی-ام-ت- کو مجھے اس کا جواب دینا پڑے گا. تم مجھے ایک درا مارو تا کہ تمہارا بدلہ پورا ہو جائے۔ آپؓ روتے جاتے تھے اور فرماتے، اے عمر تو غیر مسلم تھا، ظ-ا-ل-م تھا، بکریاں چراتا تھا، خدا نے تجھے اسلام کی دولت سے مالا مال کیا۔ لٰہذا اللہ کے خ-و-ف سے ڈ، جس نے تجھے ہدایت دی ہے۔ اور اُس کی فرمانبرداری کر۔ آپؓ نے کہا نہیں نہیں، کل ق-ی-ا-م-ت کو مجھے اس کا جواب دینا پڑے گا. تم مجھے ایک درا مارو تا کہ تمہارا بدلہ پورا ہو جائے۔ آپؓ روتے جاتے تھے اور فرماتے، اے عمر تو تھا، ظالم تھا، بکریاں چراتا تھا، خدا نے تجھے اسلام کی دولت سے مالا مال کیا۔ لٰہذا اللہ کے خوف سے ڈ، جس نے تجھے ہدایت دی ہے۔ اور اُس کی فرمانبرداری کر۔

50% LikesVS
50% Dislikes