Recent Comments

No comments to show.

میانوالی کے حکیم کے عرب نوجوان کا علاج کرنےکا واقعہ

چکوال کی تحصیل تلہ گنگ کے قصبہ ڈھرنا ل کے رہائشی ایک حکیم گزرے ہیں جو اپنی حکمت اور اور طریقہ علاج میں بے مثال کامیابیوں کے باعث نہ صرف خطہ پوٹھوہار میں بلکہ عرب ملکوں میں بھی خاص شہرت رکھتے تھے۔ ان کا نام حکیم ابراہیم تھا اورانھوںنے میانوالی میں اپنا دوا خانہ بنا رکھا تھا۔

ان کے حوالے سے ایک مشہور زمانہ واقعہ پیش خدمت ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حکیم ابراہیم کے کاروبار کی دور دورتک شہرت تھی۔اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں شفا رکھی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ ان کی دوائوں کی کوئی بھی قیمت ادا کرنے کو تیار ہوجاتے تھے۔ حکیم صاحب نے اپنی شہرت اور اپنے ہنر کو ناجائز منافع خوری کا ذریعہ نہیں بننے دیا اوراپنی دوا کے انتہائی معمولی دام وصول کرتے تھے۔تاہم اصحاب ثروت زور زبردستی سے بطور ہدیہ خطیر رقوم ان کی نذر کیا کرتے تھے۔حکیم ابراہیم حتیٰ الوساطت اس رقم کو اللہ کی راہ پر خرچ کردیتے۔ ایک بار حکیم صاحب نے کچھ وقت کےلئے اپنی کاروباری مصروفیات کو ترک کے عمرہ کا ارارہ کیا اور سعودی عرب روانہ ہو گئے۔ حکیم ابراہیم مدینہ منورہ میں روضہ رسول کی زیارت کررہے تھے کہ ایک عرب شخص ان سے ملنےپہنچا،یہ شخص حلیے سے خاصا دولت مند لگ رہا تھا اوراردو زبان بولنا جانتا تھا تاہم اس وقت خاصا پریشان دکھائی دے رہا تھا۔اس شخص نے بتایا کہ نہ جانے اس کے بیٹے کو کیا ہو گیاہے۔ ہر وقت گم سم اورخاموش رہتا ہے۔ کچھ کھاتا پیتا نہیں اور نہ ہی کسی سے بولتاہے۔ اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ لگتا ہے کہ مرنے کے قریب ہے۔ مہنگے سے مہنگے علاج معالجےکے باوجود کوئی بھی طبیب اس کی مرض کی تشخیص نہ کرسکا۔ اگرآپ اس کا علاج کردیں ، سنا ہے اللہ نے آپ کے ہاتھ میں شفا رکھی ہے۔

اس پر حکیم ابراہیم نے اسے صاف دھتکارتے ہوئے کہا کہ انھوںنے کاروباری مصروفیات کو ترک کرکے عبادت اور ذکر اذکار کےلئے یہاںکا رخ کیا تھا۔ یہاں وہ کسی کا علاج نہیں کریں گے۔ تاہم اس شخص اور اس کے ساتھ آئے لوگوں نے حکیم صاحب کو واسطہ دیا کہ یہ ایک انسان کی زندگی کا سوال تھا۔ جسے بچاناعین فرض قراردیا گیا ہے۔حکیم ابراہیم کو کافی منت سماجت کے بعد راضی کر لیا گیا۔حکیم ابراہیم نے اس نوجوان کو وہاں بلوا بھیجا اور اس کی نبض دیکھی ۔ اور ایک ہی لمحے میں اس کے ورثا کو بتا دیا کہ اس کے دل پرچچڑ چپک چکا ہے۔ جو مسلسل اس کے دل کے خون کو چوس رہا ہے۔ یہ مریض ایک عجیب و غریب تکلیف میں مبتلا ہے اوراگر اس چچڑ کو باہر نہ نکالا گیا تو وہ نوجوان مر جائے گا۔اس پر اس کے لواحقین پریشان ہوگئے اورکہاکہ اس چچڑ کو نکالنے کاکوئی طریقہ بھی تجویز کیا جائے۔ حکیم ابراہیم نے کچھ دیر سوچنے کے بعد ان لوگوں سے کہاکہ وہ اونٹ کا گوشت وہاں لے کر آئیں۔ عرب ملکوں میں اونٹ کا گوشت بآسانی دستیاب ہوجاتا ہے، چنانچہ ان لوگوں نے جلد ہی اس کا اہتمام کیا۔ حکیم ابراہیم نے ایک پرگوشت اور بڑی بوٹی الگ کی۔ اور اس کے ساتھ ایک لمبااور مضبوط دھاگہ باندھ دیا۔ جس کے بعد حکیم ابراہیم نے اس نوجوان سے کہا کہ وہ اس گوشت کو جہاں تک حلق میں اتا رسکتا ہے ،اتارے۔ اپنا علاج ہوتا ہوا دیکھ کر نوجوان کی

آنکھوں میں ایک لمبے عرصے بعد معمولی سی چمک دکھائی دی اور اس نے گوشت کو حلق میں اتارنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ گوشت کا ٹکڑا پوری طرح سے حلق میں اتر گیا۔ تو حکیم ابراہیم نے اس کے ساتھ باندھےہوئے دھاگے کو باہر کی طرف کھینچنا شروع کردیا۔کچھ کوشش کے بعد وہ گوشت کا ٹکڑا اس نوجوان کے حلق سے واپس باہر آگیا لیکن اب اس گوشت کے ٹکڑے پر وہ چچڑ بھی موجود تھاجو اس نوجوان کے دل سے چپک کر اسے مریض بنائے ہوئے تھا۔چچڑ کے باہر آتے ہی نوجوان کی حالت تیزی سے سنبھلنے لگی۔ اور اس کی اندر زندگی واپس آتی ہوئی دکھائی دی۔ وہ پرجوش انداز میں ادھر ادھر دیکھنے لگا ، اور یوں محسوس ہوا جیسے لمبا عرصہ کومے میں رہنے کے بعد ہوش میں آیا ہو۔وہاں موجود مجمع یہ دیکھ کر سبحان اللہ سبحان اللہ کہہ کرپکارنے لگا۔ لوگوںنے آفرین آمیز نگاہوں سے حکیم ابراہیم کی طرف دیکھا اوران سے حیرت سے پوچھا کہ آخر انھوںنے اس علاج کےلئے اونٹ کا گوشت ہی کیوں تجویز کیا۔ جس پر حکیم ابراہیم نے ان لوگوں کو بتا یا کہ اونٹ کا گوشت چچڑ کی سب سے بڑی کمزور ی ہے۔ اس کی خوشبو سونگھتے ہی چچڑدیوانہ وار اس سے چپک جاتا ہے۔ایک لمبے عرصے تک اس واقعے کا چرچا رہا۔آج حکیم ابراہیم کو گزرے ہوئے دہائیاں بیت گئی ہیں لیکن لوگ ان کے منفرد طریقہ علاج اور بالخصوص اس واقعے کو آج بھی یاد کرتے ہیں

50% LikesVS
50% Dislikes