Recent Comments

No comments to show.

مثالی شوہر کے ذمہ حقوق اور اس کے اوصاف

قرآن کریم میں نکاح کی اخلاقی غرض عفت وپاکدامنی بیان کی گئی ہے نہ کہ شہوت رانی (سورۃ مائدہ :24)۔ یہ پاکدامنی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تب ہی ہوسکتی ہے جب یہ رشتہ بھی دائمی ہو۔ اس لیے شریعت نے میاں بیوی کے ایک دوسرے پر علیحدہ علیحدہ حقوق بیان کردیے جن کے اداکرنے سے تا دم حیات محبت بڑھتی رہتی ہے۔ پہلےایک مثالی شوہرکےذمہ حقوق اور اس کے اوصاف ذکر کیے جاتے ہیں: مثالی شوہر وہ ہے جو

بیوی ایسے پیش آئے کہ وہ اس کے گن گائے ،اپنی ہر محفل کو شوہر کی اچھی اوصاف سے معطرکردے۔ ایک مشہور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا : ” خيركم خيركم لأهله، وقال أيضا : خياركم خياركم لنسائهم” تم میں سب سے بہتروہ ہیں جو اپنی بیویوں اس حدیث میں آپ ﷺ نے انسان کے بہتر اور اچھے ہونے کا معیار وآئینہ بتلادیا، جس میں ہر شخص اپنا چہرہ دیکھ کر اپنا تجزیہ کرسکتاہے کہ وہ اخلاق کے کس درجہ پر فائز ہے۔ لہذا جو اپنوں کے ساتھ انصاف واحسان نہیں کرسکتا وہ دوسروں کے ساتھ کیوں کر کرسکتاہے۔ اپنی وسعت کے مطابق بیوی پر فراوانی سے خرچ کرنا۔ (سورۃ طلاق : 7) جہاں خود رہائش پذیر ہے وہاں بیگم کو رہائش دینا۔(سورۃ طلاق : 7) بیوی کی اچھی تربیت کرتے رہناکہ اسے دینی مسائل سکھلائے اور نیکی کی ترغیب دیتا رہے۔ حدیث میں آپ ﷺ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ : ” عورت پسلی کی طرح ٹیڑھی ہے ، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ بیٹھو گے ، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ ٹیڑھا پن رہتے ہوئے اس سے نفع اٹھا تے رہو”(بخاری : 5/1987/4889 ، ناشر : دار ابن کثیر) اس حدیث کے پیش نظر بیوی کی کم فہمیوں اور کج روی کی اصلاح کے لیے شوہر کو انتہائی محتاط طریقہ اختیار کرنا چاہیے ،موقع محل کی مناسبت سے کبھی سختی کرے توکبھی نرمی ۔ شوہر اور بیوی پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مزاج شناس ہوں۔ کیونکہ قرآن کریم میں میاں بیوی کے تعلق کو لباس سے تشبیہ دی گئی ہے ۔لباس سے انسان اچھی طرح تب ہی نفع حاصل کرسکتا ہے

جب اس کی کوالٹی سے اور سلائی ، دھلائی ، خشک کرنے اور استری کرکے زیب تن کرنے کے طریقہ کار سے واقف ہو۔ ایسےمیاں بیوی ایک دوسرے سے دنیا میں تب ہی لطف اندوز ہوسکتے ہیں جب وہ شادی کے ابتدائی دنوں میں ہی ایک دوسرے کے مزاج شناس ہو کرتادم حیات ایک دوسرے کے مزاج کی رعایت کرنے کی حامی بھرلیں۔ اس سے پورے گھر کا ماحول جنت کا منظر پیش کرنے لگے گا۔ شوہر پر لازم ہے کہ بیوی کی دلجوئی ورضامندی کے لیے ہر وہ کام کرے جس میں شرعا کوئی حرج نہ ہو۔ بیوی کے لیے اپنی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئےدن یارات میں کوئی وقت مخصوص کرلے،چاہے وہ آدھا گھنٹہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس میں اس سے اپنے معاملات کے بارے مشورہ لے ، اگر اس کی کوئی شکایات ہوں ان کو دور کرے ، اس کے رشتہ داروں کی خیر خبر لے۔ حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو فرمایا:”تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے”(بخاری : 2/679/1874 ، ناشر : دار ابن کثیر) بیوی کے سامنے اور بسااوقات بھرے مجمع میں اس کی محبت کااظہار واقرار کرے۔ یہی آپ ﷺ کا اسوہ حسنہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ ﷺ سے بھر ے مجمع میں سوال کیا :”سب سے زیادہ آپ کو کس سے محبت ہے ؟آپ نے فرمایا : اپنی بیوی عائشہ کے ساتھ”۔(بخاری : 3/1339/3462 ، ناشر : دار ابن کثیر)

50% LikesVS
50% Dislikes