Recent Comments

No comments to show.

”ہر طرح کی جلن کا بہترین علاج“

آرٹیکلز
ایک سوال ہے پاؤں کی تلیاں کیوں جلتی ہیں؟ اس کا جواب کچھ یوں ہے۔

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کو سادہ سمجھو۔ انسان مٹی سے بنا۔ ش یطان کس سے بنا؟ ظاہر ہے آگ سے ۔ جدھر جلن آئے گی۔ وہاں پر کون آئےگا؟ مٹی کو تو کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ جو اپنا کام ٹھیک کرتی ہو۔ اگر آپ سیدھے جارہے ہو۔ آپ کو صراط مستقیم سے کس نے لانا ہے؟ ش یطان نے؟ ہر کام میں کون آئے گا؟ ش یطان ۔ اس کا سیدھا سا علاج سمجھو۔ اگرآپ کے کہیں پر بھی جلن ہے۔ سینے میں جلن ہے۔ معدے میں جلن ہے۔ یا گردے میں جلن ہے۔ چاہے آنتوں میں ہے۔ چاہے پیشاب کرنےسے پہلے یا بعد میں ہے۔ جل ہاتھوں میں ہےپیروں میں ہے۔ چاہے جسم میں ہے۔ چاہے جہاں بھی جلن ہے۔ وہاں پر ٹھنڈ ک لاؤ۔ آپ کو معلوم ہے کہ ٹھنڈک کیا ہے؟ پودینہ اور دھنیا۔ امام طیب نے لکھاہے۔ اسی فیصد بیماریاں جیناتی ہیں اور ان کا علاج دھنیا اور پودینہ ہے۔ یہاں پر سیانوں نے مت ماری ہوئی ہے کہ اگر دھنیا لیا تو پھر تو گیا۔ وہ صیحح کہتے ہیں تو واقعی اللہ تعالیٰ سے دور ہو گیا۔ اس سے کچھ نہیں ہوتا۔ اس سے فائدہ ہی فائدہ ہوتا ہے۔ جتنے لوگوں کو جیناتی بیماریا ں ہیں۔ واللہ! بہترین دوائی ہے۔ اب جو گرمیاں آئی ہیں۔ تو اپنے گھر میں دھنیا اور پودینہ رگڑ کررکھو۔ اس کی اشکنجی بنابنا کر پیئو۔ کبھی سن اسٹروک نہیں ہوگا۔ کبھی جلن نہیں ہوگی۔ آنکھوں سے کبھی بھی سیک نہیں نکلے گا۔ معدے سے سیک نہیں نکلے گا۔ یہ جو عام گرمیاں ہیں۔ معد ے کی گرمی ، جگر کی گرمی یا مثانے کی گرمی ہے۔ اس کی اشکنجی بناؤ۔ چینی نہیں ڈالنی گڑ ڈالناہے۔ جتنوں کو جلن ہے۔ دھنیا اور پودینہ کی اشکنجی بنا کر گڑ ڈال کر وہ پیئو۔ انشاءاللہ! بہترین علاج ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes