Recent Comments

No comments to show.

”رسول پاک ﷺ نے فرمایا: پچاس صحابہ کے برابر اجر پانے والے خوش نصیب لوگ کون؟“

آرٹیکلز
پچاس صحابہ رضی اللہ عنہم کے برابر اجر پانے والا کون؟

رسول اللہﷺ نے فرمایا: ایسے دن بھی آنے والے ہیں، کہ اس وقت صبر کرنا، دین پر جمے رہنا، انگارے کو مٹھی میں پکڑنے جیسا مشکل کام ہوگا۔ اس دور میں دین پر عمل کرنے والے کو تم جیسے پچاس عمل کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا، پوچھا گیا: پچاس ان میں سے یا ہم میں سے ؟ فرمایا: نہیں بلکہ تم میں سے کھانا کھانے سےپہلے بسم اللہ ضرور پڑھنی چاہیے۔ ش یطان نے کہا: اے اللہ! تو نے اپنی مخلوق کا رزق لکھ دیا ہے۔ میرا رزق کس میں ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جس رزق پر میرا نام نہیں لیا جائےگا۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک مومن کی مثال شہد کی مکھی کی طرح ہے۔ جو پھول جیسی پاکیزہ چیز کھاتی ہے۔ شہد جیسی پاکیزہ چیز نکالتی ہے۔ اور جب وہ کسی چیز پر بیٹھتی ہے۔ تو وہ اسے نہ توڑتی ہے نہ خراب کرتی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے اصحاب میں سے دو شخص عباد بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دوسرے میں سمجھتا ہوں اسید بن حضیرؓ تھے اندھیری رات میں آنحضرت ﷺ کے پاس سے نکلے ( اپنے گھر جانے کو) ان کے ساتھ ( نور کے) دو چراغ ہوگئے جوان کے آگے روشنی دے رہے تھے جب وہ ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو ہر ایک کے ساتھ ایک ایک چراغ رہ گیا جو گھر تک ساتھ رہا۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے خطبہ سنایا تو فرمایا اللہ پاک نے ایک (اپنے ) بندے کو اختیار دیا چاہے دنیا میں رہے چاہے جو اللہ کے پاس ہے اس کو اختیار کرے اس نے وہ پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے۔ یہ سن کر ابو بکر رو دیے ۔میں نے اپنے دل میں کہا یہ بوڑھا روتا کیوں ہے (اس کو کیا غر ض کہ اللہ نے اپنے ایک بندے کو دنیا یا آخرت دونوں میں سے جس کو وہ چاہے اختیار دیا اس نے آخرت کو اختیار کیا )بعد میں مجھ کو معلوم ہوا بندے سے مراد خود آنحضرت ﷺ تھے اور ابوبکرؓ ہم سب لوگوں میں زیادہ علم رکھتے تھے ۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ابوبکر رو نہیں سب لوگوں میں کسی کے مال اور صحبت کا احسان مجھ پراتنا نہیں جتنا ابوبکر کا ہے اور اگر میں اپنی امت کے لوگوں میں کسی کو جانی دوست بتاتا تو ابوبکر کو جانی دوست بتاتا البتہ اسلام کی برادری اور دوستی ہے ۔ دیکھو مسجد میں کس کا دروازہ کھلا نہ رہے بند کر دیا جائے مگر ابوبکرؓ کا دروازہ ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنی اس بیماری میں جس میں انتقال فرمایا ایک کپڑے سے اپنا سر باندھے ہوئے باہر نکلے پھرمنبر پر بیٹھے اللہ کی تعریف بیان کی اور اس کی ثناء ۔پھر فرمایا لوگوں میں کسی کا احسان اپنی جان اورمال سے مجھ پر ابوبکر بن ابی قحافہؓ سے زیادہ نہیں ہے اور اگر میں کسی کو جانی دوست بناتا (جانی دوستی اللہ کے سواکسی سے نہیں ہوسکتی ) مگراسلام کی دوستی یہ ( کیا کم ہے) بہت اچھی ہے۔ دیکھو اس مسجد میں جتنی کھڑکیاں ہیں سب بند کر دو ابوبکرؓ کی کھڑکی رہنے دو۔

50% LikesVS
50% Dislikes